لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور کے میو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والا شخص واقعی کورونا وائرس کا شکار تھا یا نہیں؟ وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے سرکاری موقف پیش کردیا۔
ضرور پڑھیں: مزارت پر اکٹھا ہونے والا پیسہ دین کیلئے خرچ ہونا چاہئے ،اوقاف اپنے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کچھ اور بندوبست کرے ،چیف جسٹس پاکستان
ڈاکٹر یاسمین کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال میں وفات پانے والے شخص کو گزشتہ شب منڈی بہاوالدین سے لایا گیا تھا اور وہ قومہ میں تھے۔ انہوں نے کہا اس شخص کو خون بہاو کا مسئلہ بھی تھا۔ تاہم اس شخص کی ٹریول ہسٹری کی وجہ سے انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ یاسمین راشد کے مطابق یہ مریض ایران سے مسقط گئے تھے اور مسقط سے پاکستان آئے تھے۔ اس لئے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیاگیاتاہم اس کی کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکت کے بارے میں وہ رپورٹ کے نتائج آنے کے بعد ہی تصدیق یا تردید کرسکیں گی۔
پنجاب میں مزید پانچ مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کردی گئی ہے۔ڈی جی خان میں آنے والے بیالیس میں سے پانچ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔جس کے بعد پنجاب میں مریضوں کی کل تعداد چھ ہوگئی ہے۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے لاہور میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پنجاب کے ضلع ڈی جی خان میں ایران سے آنے والے سات سو چھتیس افراد زیر نگرانی ہیں۔ پہلے مرحلے میں بیالیس لوگوں کے ٹیسٹ ہوئے دوسرے مرحلے میں اڑتالیس لوگوں کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں۔
ضرور پڑھیں: ”عمران خان کا اپنا کاروبار نہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ۔۔“ڈرامے میرے پاس تم ہو کے عدنان صدیقی عرف ” شہوار “ کو مذاق کرنا مہنگا پڑ گیا
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت مریضوں کی تعداد کے حوالے سے کسی قسم کے اعدادوشمار کو چھپا نہیں رہی۔سکولز ، کالجز، یونیورسٹیاں بند کردی ہیں، کوشش ہے کہ کاروبار چلتے رہیں۔انہوں نے کہا لوگ چھٹیوں کو سیرسپاٹے کا موقع نہ سمجھیں یہ مجبوری ہے اور گھروں پر رہیں۔ انہوں نے کہا تمام تر تفصیلات حکومت روزانہ کی بنیاد پرجاری کرے گی۔ انہوں نے کہا یہ ایک موذی مرض کے خلاف جنگ ہے جس کے خلاف میڈیا اور تمام اداروں اور افراد کو مل کر لڑنا ہوگا۔
wj Graphics
Tuesday, 17 March 2020
Friday, 12 July 2019
Friday, 2 October 2015
Subscribe to:
Posts (Atom)



